15 اکتوبر 2026 - 22:47
ٹرمپ اگر شریف ہوتا تو بچیوں کی قتل پر معافی مانگتا، ٹکر کارلسن - 1 + ویڈیو

مشہور امریکی تجزیہ کار اور فاکس نیوز کے سابق میزبان "ٹکر کارلسن" نے کہا: "ٹرمپ اگر انسانی شرافت سے بہرہ مند ہوتا، تو وہ اسی پہلے ہی دن ہی ایرانی پرائمری اسکول کی بچیوں کے قتل کی ذمہ داری قبول کرتا اور معافی مانگتا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || مشہور امریکی تجزیہ کار اور فاکس نیوز کے سابق میزبان "ٹکر کارلسن" نے کہا: "ٹرمپ اگر انسانی شرافت سے بہرہ مند ہوتا، تو وہ اسی پہلے ہی دن ہی ایرانی پرائمری اسکول کی بچیوں کے قتل کی ذمہ داری قبول کرتا اور معافی مانگتا! انھوں نے ایک ویڈیو انٹرویو میں کہا:

ایک اسکول جس پر امریکہ نے بمباری کی اور 100 سے زائد بچیوں کو کلاس روم میں ہی قتل کر دیا!

جنگ ہم سب کو بدل دیتی ہے؛

ہم جنگ میں انتہائی ناخوشگوار چیزیں دیکھتے ہیں اور جس قدر انہیں زیادہ دیکھتے ہیں، انہیں ایک معمولی سے واقعات کے طور پر قبول کر لیتے ہیں!

اسی بنا پر آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ٹرمپ جیسا شخص ـ جو ویڈیو آپ نے دیکھا اس کا تعلق 2020 سے ہے ـ تبدیل ہوجاتا ہے ایسے شخص میں جسے آپ اب دیکھتے ہیں!

یہ وہی شخص ہے؛ ریاستہائے متحدہ امریکہ کا صدر، ڈونلڈ ٹرمپ، جو ایران میں بچیوں کے پرائمری اسکول کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتا ہے، جس پر امریکہ نے بمباری کی ہے اور 100 سے زیادہ بچیوں کو کلاس روم میں قتل کر دیا ہے!

اس سوال پر اس کا جواب، ایک شخص کو ہمارے سامنے پیش کرتا ہے کہ گویا بہت زیادہ مختلف صورت اختیار کر گیا ہے!

دیکھئے:

 پوچھا جاتا ہے: اب آپ ایران کے ساتھ جنگ کے نئے مرحلے کا سامنا کریں گے، کیا آپ کہہ سکتے ہیں کہ جنگ کے پہلے دن ایران میں ایک اسکول پر حملے کے جرم میں ـ جس میں 100 سے زیادہ بچوں کو قتل کیا گیا ـ اپنی حکومت میں کسی شخص کی بازخواست کریں گے؟

ٹرمپ کے الفاظ:

"نہیں! اگر کوئی غلطی ہوئی ہے ـ اور جیسا کہ تم جانتے ہو زیر غور ہے ـ واقعی ایک عجیب سوال ہے جو اس موقع پر پوچھا جاتا ہے۔ ہم ایک ایسی چیز کے بارے میں بات کر رہے ہیں جو عرصہ قبل وقوع پذیر ہوئی ہے؛ لیکن کسی بھی جان بوجھ کر ایسا کام نہیں کیا ہے! ۔۔۔ میرا خیال ہے ان کے اپنے بارے میں بھی سوال پوچھو: "وہ ہزاروں فوجی، جو اپنی گاڑیوں کے دروازے کھول رہے تھے، اور گاڑیاں دھماکے پھٹ گئیں، اس کا جواب کیا ہے؟ ان ہزاروں افراد کے بارے میں کیا کہو گے جنہیں ایرانیوں نے ہلاک کر دیا؟"

نہیں! [کسی کو سزا نہیں دوںگا] غلطیاں ہوتی رہتی ہیں؛ جنگ گندی چیز ہے! لیکن میں جانتا ہوں کہ اس مسئلے کی تفتیش کی جا رہی ہے، اور شاید کل اس کے بارے میں آپ کو اس کی رپورٹ پیش کروں!

یہ سوال تم پیٹ ہیگستھ سے پوچھ لو، کیونکہ یہ لوگ اس مسئلے کی تفتیش کر رہے ہیں!"

ٹکر کارلسن: جی ہاں! "زیر تفتیش ہے"؛ بالکل اسی طرح، کہ جب یہودی آبادکار کسی فلسطینی کو قتل کرتے ہیں، حتی عیسائیوں کو، تو وہ کہتے ہیں: "مسئلہ زیر تفتیش ہے"۔

جی ہاں! زیر تفتیش ہے؛ ہم اس کے بارے میں اظہار خیال نہیں کر سکتے، تفتیش ابھی مکمل نہیں ہوئی لہذا ہم اس کے بارے میں بات نہیں کر سکتے!"

اچھا تویہ ممکنہ طور پر جھوٹ ہے، شاید سچ بھی ہے، کون جانتا ہے؟!!

لیکن ایک فوری اور حتمی رد عمل کے لئے، آپ کو تفتیش کی کوئی ضرورت نہیں ہے، اور اس رد عمل کو آپ کی اپنی شرافت سے جنم لینا چاہئے۔

جواب یوں ہونا چاہئے تھا:

"یہ المناک ہے، مجھے امید ہے کہ ہم نے یہ حملہ نہ کیا ہو۔ اگر ہم نے یہ کام کیا ہو، تو ہمیں اس کے جواب میں، معذرت خواہی کرنی چاہئے، کیونکہ بچیاں، کبھی بھی، کسی بھی صورت حال میں، خواہ جنگ کی صورت میں، خواہ امن کی صورت میں، جائز ہدف نہیں ہیں؛ بچوں کو کسی صورت میں بھی قتل نہیں کیا جا سکتا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha